Saturday, November 18, 2017

miTā de apnī hastī ko agar kuchh martaba chāhe

miTā de apnī hastī ko agar kuchh martaba chāhe
ki daana ḳhaak meñ mil kar gul-o-gulzār hotā hai

a seed has to bite the dust to become a flower

تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

There is one Urdu verse which is quite renowned because of its theme, and this verse goes like:
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
Roman Script:
Tundi-e baad-e-mukhalif se na ghabra ay uqaab
Ye tou chalti hai tujhay ooncha urranay ke liye”
Translation:
Don’t fear the intensity of opposing-wind*, O’ Eagle
It only blows to help you fly even higher.
[*headwind: A wind blowing from directly in front, opposing forward motion]
Due to such fine theme and the presence of the metaphor “Uqaab“, the Eagle, many people confuse this verse and relate it to Dr. Allama Muhammad Iqbal.

This verse is actually written by Sayyed Sadiq Hussain Shah, and below is the photo of his tombstone in Islamabad.

Tundi-e baad-e-mukhalif se na ghabra ay uqaab Ye tou chalti hai tujhay ooncha urranay ke liye”

There is one Urdu verse which is quite renowned because of its theme, and this verse goes like:
تندئ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے
Roman Script:
Tundi-e baad-e-mukhalif se na ghabra ay uqaab
Ye tou chalti hai tujhay ooncha urranay ke liye”
Translation:
Don’t fear the intensity of opposing-wind*, O’ Eagle
It only blows to help you fly even higher.
[*headwind: A wind blowing from directly in front, opposing forward motion]
Due to such fine theme and the presence of the metaphor “Uqaab“, the Eagle, many people confuse this verse and relate it to Dr. Allama Muhammad Iqbal.

This verse is actually written by Sayyed Sadiq Hussain Shah, and below is the photo of his tombstone in Islamabad.

Sunday, November 12, 2017

Under the Banner of Peace India Foundation I Organised a Academic and Literary Session on Maulana Abul Kalam Aazad who is First Education Minister of India


مولانا ابو الکلام آزاد جدید تعلیم و ٹیکنالوجی کے داعی اور مفکر تھے،ان کا یوم پیدائش یوم تعلیم کے نام سے ہرسال منایا جاتا ہے ؟مولانا آزاد ایک سچے ہندوستانی اور ہندوستان کی اس مٹی کے تربیت یافتہ تھے جس نے ماضی میں بھی دنیا کو بڑے بڑے عالم فاضل،رشی ،منی اور مفکر دیے ہیں ۔ وہ اسی ہندوستان کے سپوت ہیں جس نے پوری دنیا کو تمدن اور تہذیب سکھائی ہے۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم آج مولانا آزاد کا یوم پیدائش منا رہے ہیں نیز اسے انسان کی سب سے بڑی ضرورت یعنی تعلیم سے وابستہ کر رہے ہیں ۔مذکورہ خیالات کا اظہار آج پیس انڈیا فاؤنڈیشن کے مرکزی آفس پنجابی بستی گھنٹہ گھر،دہلی میں منعقدہ پروگرام کی صدارت کر تے ہوئے ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا کیا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا آزاد کی پیدائش کا جائے مقام مکہ ہے جہاں اقرا یعنی پڑھنے کی پہلی وحی نازل ہوئی۔جہاں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی جانب سے پڑھائی کا حکم ملا۔چنانچہ اسی سرزمین کا فیضان ہے کہ اس نے ہمیں مولانا ابو الکلام جیسا عالم،مفسر،مضمون نگار،مفکر اور دانشور دیا۔یہ ہمارے اور ہمارے ملک پر اللہ تعالیٰ کا خصوصی احسان اور کرم ہے۔انھوں نے کہا کہ آج کے دن کا پیغام یہ ہے کہ ہم جدید تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی جس کامنبع و مرکز تمام مذہبی کتب بالخصوص قرآن و حدیث کی تعلیمات ہیں اور اعلا فکر جیسی نعمتیں حاصل کر نے کی بھر پورکوشش کریں کیوں کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حکمت و دانائی مومن کا گم کردہ سرمایہ ہے۔سو اسے چاہیے کہ وہ اسے جہاں پائے، ہر حال میں حاصل کر ے۔مولانا ابو الکلام آزاد اور ان کی تعلیمات و کوششیں ہمیں یہی سکھاتی ہیں اور اسی کی تلقین کرتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایک طبقے کے متعلق مفروضہ مشہور ہے کہ وہ سخت مسلم مخالف ہے مگر وہ طبقہ بھی مولانا آزاد کو اپنا عظیم ترین سرمایہ تصور کرتا ہے۔
شعبۂ اردو ستیہ وتی کالج ،دہلی یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر عارف اشتیاق نے اس موقع پر کہا کہ مولانا آزاد اور تعلیم دونوں ایک ایسی حقیقت ہیں جن کا ایک دوسرے کے بغیر تصور ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ مولانا نے ملک کے آزاد ہونے سے قبل اور بعد جوحصول تعلیم کی کوششیں کیں اور باشندگان وطن کے لیے جس طرح کی تعلیم کے چلن کے خواب دیکھے ،ان کی مثال کہیں نہیں ملتی۔مولانا نہ صرف ملک عزیز کے پرستار تھے اور یہاں بسنے والی تمام اقوام کی بھلائی کے لیے فکر مند تھے بلکہ ملت اسلامیہ کے لیے بھی ان کے دل میں بہت درد اور احساس تھا۔چنانچہ انھوں نے تعلیم کی جانب متوجہ کرنے کے لیے یہاں کی اقلیتوں اور مسلمانوں کو اسکالرشپ اور تعلیمی وظائف کا سلسلہ شروع کیا،اس کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی جماعت نے اس طریقے سے استفادہ کیا۔
اس موقع فاؤنڈیشن کے ممبر عمران عاکف خان نے کہا کہ مولانا آزاد نے روایتی تعلیم اور جدید تعلیم اسی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے حصول پر بہت زور دیا ۔انھوں نے جہاں اپنی علمی ،ادبی اور مذہبی تحریروں سے اس تعلیم کے حصول کی تلقین کی،وہیں انھوں نے نئی تعلیم اور وقت کے تقاضوں کے مطابق چیزوں کو سوچنے ا ور سمجھنے کی طرف بھی توجہ دلائی۔انھوں نے اپنی وزارت تعلیمات کے دوران ملک بھر میں پھیلی کالجز،یونیورسٹیوں اور سرکاری محکموں کے زیر اہتمام جاری تعلیمی اداروں میں تعلیم اور انداز تعلیم کو از سر نو مرتب کیا اور پھر اس کے لیے متعدد رہ نما اصول بھی مرتب کیے۔چنانچہ آج ہم جس نہج کی تعلیم عصری درسگاہوں میں پڑھتے پڑھاتے ہیں ،وہ وہی انداز ہے اور یہ وہی اصول و ضابطے ہیں۔
اس موقع پر پروگرام میں مدعو محمد اکبر راعین نے کہا کہ مولانا آزاد کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہومگر سب سے پہلے وہ عظیم مجاہد آزادی اور ہندوستانی تھے۔چنانچہ ان کی خدمات اور تمام تر منصوبے ،سب کے سب ہندوستان اور ہندوستانی قوموں کے لیے تھے۔ان کے دل میں سب کے لیے تڑپ اور درد تھا اور سب کے لیے یکساں طور پر سوچتے تھے۔اس موقع پر حاضرین و سامعین کی بڑی تعداد موجود تھی۔


Saturday, November 11, 2017

KIRORI MAL COLLEGE IQBAL DAY

KIRORI MAL COLLEGE IQBAL DAY
کروڑی مل کالج دہلی میں یوم اردو و اقبال منایاگیا

علامہ اقبال اور اردو کاآپس میں بہت گہر اتعلق ہے چنانچہ جہاں ارودکا ذکر ہوگا وہاں پر علامہ اقبال کا بھی ذکر ہوگا ،اس کی وجہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اردو کو اپنے خیالات وافکارکا ذریعہ بنایا اور اپنے کلام کا بیشتر حصہ اسی زبان میں تخلیق کیا۔انھوں نے جہاں فارسی زبان کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا وہیں اردو کو بھی بنایا۔یہی وجہ ہے کہ اردوزبان و ادب اور شاعری نے ان کے قلم سے جلا پائی ہے۔وہ ایک بڑے دانشور اور مفکر قوم ہیں نیز ان کا درد آفاقی ہے اور اس کا ذریعۂ اظہار اردو۔اسی لیے اردو اور اقبال کے مابین خصوصی ربط و ضبط ہے اور اقبال و اردو اور اردو واقبال کا تصور کسی طرح بھی علاحدہ نہیں کیا جاسکتا۔مذکورہ خیالات کا اظہار آج یہاں شعبۂ اردوکروڑی مل کالج،دہلی یونیورسٹی میں منعقدہ خصوصی پروگرام بعنوان’’تقریب بہ موقع اردو و اقبال‘‘کے بینر تلے شعبے کے سینئر استاذڈاکٹر محمد یحییٰ صبا نے کیا۔یہ پروگرام ڈاکٹر محمد خالد اشرف کی صدارت میں منعقد ہوا جس کی نظامت جاوید اختر نے کی۔
ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا نے اپنے وقیع خطبے میں طلباء کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی تدریس افکار اقبال کے بغیر ناممکن ہے۔اقبال ہماری گنگا جمنی تہذیب کے علم بر دار ہیں اور اردو کی بھی یہی خاصیت رہی ہے چنانچہ اقبال کا مقام اس طرح بھی نہایت بلند اور باوقار ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اقبال کا فلسفۂ خودی ایک نایاب اور نادر فلسفہ ہے جو راست قرآن و حدیث کی تعلیمات سے متاثر ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ علامہ نے اسلامی اقتصادیات اور فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ہے چنانچہ ان سب چیزوں کا اثر آنا لازمی تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ اقبال کی تعلیمات اور اردو کے حوالے سے ان کی خدمات ہمارے لیے نہ صرف قابل عمل ہیں بلکہ قابل فخر سرمایہ بھی۔علامہ اقبال نے ایسے وقت میں اردو کا پرچم بلند کیا جب حقیقی معنوں میں اس کی شناخت اور وجود پر خطرات کے بادل منڈلا رہے تھے۔گو انھوں نے فارسی زبان میں شاعری کی مگر ثانوی زبان کے طور پر اردو ہی ان کی پسندیدہ زبان ٹھہری۔
اس موقع پر شعبے کے ٹیچر انچارج اور سینئر استاذ ڈاکٹر محمد خالد اشرف نے اقبال ڈے کی تقریب کے انعقاد پر شعبے کے طلبا کو مبارک باد دیتے ہوئے اقبال اور اقبالیات پر خصوصی خطاب کیا ۔جس میں انھوں نے تاریخی حقائق اور اس وقت کے سیاسی اتارچڑھاؤ کے حوالے سے بہت سی معلومات افزا اور حیرت انگیز باتیں بتائیں۔انھوں نے علامہ اقبال کوبیسویں صدی کا شاعر بتاتے کہا کہ علامہ اقبال گو پاکستان اور وہاں کے مفکرو ں وشاعرو ں کے امام بن گئے مگر ان کی آفاقیت اور ہندوستانیت سے کسی بھی طور انکار ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی اور خبرگیری ایسے وقت میں کی جب ان کی شناخت اور وجوددونوں مخدوش تھے۔ علامہ اقبال مسلم لیگ کے صدر تھے مگر جناح سے زیادہ سیکولر اور فکر مندانسان تھے چنانچہ انھیں پاکستان کا بانی کہہ کر ہمیشہ مطعون کیا جاتا ہے جب کہ سچی بات یہ ہے کہ اقبال کے درد کو سمجھا ہی نہیں گیا۔وہ کبھی بھی پاکستان کے طور پر کسی آزاد و علاحدہ ملک کے حامی نہیں تھے بلکہ وہ اسی ہندوستان میں مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں میں ان کی جداگانہ حیثیت اور اٹانمس کے حامی تھے۔انھوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کا درد اوراقبال کی فکر دونوں غوروفکر اور عمل کی چیزیں ہیں۔
انھوں نے علامہ اقبال اور سرسید احمد خاں کی فکرو ں کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم سرسید احمد خاں کی تحریکات،ہندوستانی مسلمانوں میں جدید تعلیم کے رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی فکرکا اندازہ کرتے ہیں تو ہمیں اقبال کا قد بلند نظر آتا ہے۔وہ ہمیں سرسید سے زیادہ مفکر نظر آتے ہیں۔
اس موقع پر جواہر لال نہرویونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عمران عاکف خان نے اقبال اور یوم اردو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اقبال اور اردو میں گہری مناسبت اور تعلق ہے۔اقبال کا احسان ارد و پر دوسرے دانشوروں سے زیادہ ہے۔اردو اور اقبال کا جداگانہ تصور ممکن نہیں بلکہ آنے والے وقت میں اقبال اور اردو اسی طرح اردو اور اقبال دونوں ایک ہی بن جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ اردو ایک ایسی زبان ہے جو دلوں کی ترجمان اور احساسات کا بیان ہے۔اردو نے اپنے یوم قیام سے ہی دوسری زبانوں کی لفظیات،استعارات،جذبات اور فکروں کو اپنے اندر سمویا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ بہت تھوڑے عرصے میں دلوں میں اپنا مقام بناتی چل گئی۔اردو نے بہت کم عرصے میں ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل کرباشندگان ہند کو اپنی اہمیت و افادیت سے روشناس کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سب اس کے حامی اور طرف دار بن گئے نیز اس کے فروغ و ارتقا کے لیے کوششیں کرنے لگے۔
اس موقع پر شعبے کے طالب علم فروغ احمد نے علامہ اقبال کے متعدد فکر انگیز اشعار کی روشنی میں تقریر کی جس میں انھوں نے علامہ کے فلسفۂ خودی اور اسے اپنانے و اس پر عمل پیرا ہونے پر زوردیا۔علامہ اقبال کی اسلام فہمی اور دینی حمیت کے تعلق سے بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال کی تعلیم و تربیت میں انجمن حمایت اسلام لاہور کا بڑا ہاتھ رہا ہے جو آخر تک ان کے ذہن فکر رسا پر حاوی رہا اور تاعمر وہ اسلام کے ترجمان رہے اور اسی کے نغمے گاتے رہے۔اس موقع پر شعبے کے ایک اور طالب علم حسین پرویز نے علامہ کی معروف نظم ’بچے کی دعا‘ترنم میں سنائی۔یہ محفل شعبے کے طالب ابواللیث قاسمی کے شکریے پر اختتام پذیر ہوئی۔
اس تقریب میں شعبے کے طلبا کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی جن میں جاوید اختر خان،فرحان اختر،سرفراز،انعم خورشید،حماد ،محمد عبد اللہ،بے نظیر،محمد انیس،توفیق خان،محمد صدام حسین،فریدہ بانو، علویہ،شہزادہ سلیم،عمر الیاس،عامر چودھری،طارق ملک،محمد آصف،بلال،عادل،محمد نعیم،ذوالفقار علی، محمد مہتاب،دلشاد،شبیر،ارشد رضانمایاں طور پر موجود تھے۔

http://urdunetjpn.com/ur/2017/11/11/kirori-mal-college-iqbal-day/







Tuesday, October 24, 2017

محمود کریمی ایک لیجنڈ ہیں: ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا

قصیدہ بردہ کے انگریزی مترجم سمیت متعدد شعری و ادبی مجموعے کے مترجم محمود کریمی ایک لیجنڈ ہیں۔ایسے افراد بہت کم ہیں اور جو ہیں وہ ہمارے لیے غنیمت ہیں۔ان کے کاموں کو پرکھنا،انھیں آگے بڑھانا اور ان کی پذیرائی کرنا ہمارا ادبی فریضہ ہے۔مذکورہ خیالات کا اظہار بہار سے تشریف لائے ڈاکٹر محمود کریمی کے دولت کدے پر ان سے ملاقات کے بعد شعبہ اردو کروڑی مل کالج،دہلی یونیورسٹی کے سینئر استاذ ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا نے ایک پریس نوٹ میں کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ بہار ایسے افراد کا ہمیشہ سے خزینہ رہا ہے جنھوں نے اردو ادب سمیت ہر زبان کے ادب کی بے لوث خدمت کی ہے۔نام و نمود کرنے والے افراد زیادہ دنوں منظر نامے پر نہیں رہتے،وہ جلد ہی غائب ہوجاتے ہیں،اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ان کے کام میں خلوص نہیں ہوتا،اور جو مخلص ہوتے ہیں،چاہے انھیں شہرت اور ناموری نہ ملے مگر انھیں ہمیشہ یاد رکھے جانا والا نام ا ور عنوان ملتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹر محمود کریمی ایسے ادب نواز اور ادب شناس ہیں جنھوں نے پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی کے متعدد شعری مجموعے،نعتیہ مجموعوں اور کئی مضامین کا انگلش زبان میں ترجمہ کیا ہے،اب وہ قصیدہ بردہ کا انگریزی ترجمہ کرچکے ہیں۔یہ قصیدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے مقبول نعت اور مشہور زمانہ کلام ہے۔جس کا متعددزبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ انگلش چوں کہ آج کے زمانے میں رابطے کی سب سے بڑی اور مشہور زبان ہے،لہٰذا ایسی زبان میں ان کا یہ کارنامہ لائق ستایش ہے جس کی پذیرائی کرنا ادبی اور دینی فریضہ ہے۔انھوں نے قصیدہ بردہ کے ترجمے کے ابتدائی نمونے دیکھ کر ان پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا اور امید جتائی کہ ان کا اوالعزم کام پذیرائی اور وقار کی نظر سے دیکھا جائے گا۔اس موقع پر ڈاکٹر موصوف کے علاوہ جواہر لال نہرویونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عمران عاکف خان سمیت کئی لوگ موجود تھے۔
http://urdu.chauthiduniya.com/2017/10/mahmood-karimi-a-legend-dr-yahya-saba

Monday, October 16, 2017

Yeh duniyaa yeh mehfil mere kaam ki nahii.N This world and these people are not for me

This world and these people are not for me, Whom should I tell the state of my restless heart?, I am the extinguished flame of my own mausoleum, If only I could forget, but I am unable to forget with what uproar marched the funeral of Spring, I know neither my own whereabouts nor have I heard news from friends, Even enemies do not receive such a punishment for love, Others meet the God for whom they have searched, Let me have just one glance from my beloved, Even as I enter the wilderness, I found no shelter, I found no pretense to erase the memory of my sadness, What can I understand about the world in which my heart remains longing for love?, Upon losing a winning gamble, I must search for my lost friend, Far from my gaze, someone is shedding tears, How can I resist going when someone calls to me?, Either let me mend this broken heart or let me break all ties, Oh mountains, show me the path! Oh thorns, let go of my embrace!, This world and these people are not for me.

Yeh Duniya Yeh Mehfil Lyrics and Translation:
This world and these people are not for me
Whom should I tell the state of my restless heart?
I am the extinguished flame of my own mausoleum
If only I could forget, but I am unable to forget
with what uproar marched the funeral of Spring
I know neither my own whereabouts nor have I heard news from friends
Even enemies do not receive such a punishment for love
Others meet the God for whom they have searched
Let me have just one glance from my beloved
Even as I enter the wilderness, I found no shelter
I found no pretense to erase the memory of my sadness
What can I understand about the world in which my heart remains longing for love?
Upon losing a winning gamble, I must search for my lost friend
Far from my gaze, someone is shedding tears
How can I resist going when someone calls to me?
Either let me mend this broken heart or let me break all ties
Oh mountains, show me the path! Oh thorns, let go of my embrace!
This world and these people are not for me

Yeh Duniya Yeh Mehfil Lyrics and Translation:
Yeh duniyaa yeh mehfil mere kaam ki nahii.N
This world and these people are not for me
Kisko sunaaoo.N haal dil-e-beqaraar kaa?
Whom should I tell the state of my restless heart?
Bujhtaa huaa chiraagh hoo.N apne mazaar kaa
I am the extinguished flame of my own mausoleum
Aye kaash bhool jaaoo.N, magar bhooltaa nahii.N
If only I could forget, but I am unable to forget
kis dhoom se uthaa thaa janaazaa bahaar kaa
with what uproar marched the funeral of Spring
Apnaa pataa mile, naa khabar yaar kii mile
I know neither my own whereabouts nor have I heard news from friends
Dushman ko bhii naa aisii sazaa pyaar kii mile
Even enemies do not receive such a punishment for love
Unko khudaa mile hai.N khudaa kii jinhe talaash
Others meet the God for whom they have searched
Mujhko bas ek jhalak mere dildaar kii mile
Let me have just one glance from my beloved
Saharaa mei.N aake bhii, mujhki Thikaanaa na milaa
Even as I enter the wilderness, I found no shelter
Gham ko bhoolaane kaa koii bahaanaa naa milaa
I found no pretense to erase the memory of my sadness
Dil tarase jis mei.N pyaar ko, kyaa samajhoo.N us sansaar ko?
What can I understand about the world in which my heart remains longing for love?
Ek jiitii baazii haar ke, mai.N DhuunDhuu.N bichhaDe yaar ko
Upon losing a winning gamble, I must search for my lost friend
Duur nigaaho.N se aa.Nsuu bahaataa hai.N koii
Far from my gaze, someone is shedding tears
Kaise na jaaoo.N mai.N, mujhko bulaataa hai.N koii
How can I resist going when someone calls to me?
Yaa TuuTe dil ko joD do, yaa saare bandhan toD do
Either let me mend this broken heart or let me break all ties
Aye parbat, rastaa de mujhe! Aye kaanto.N, daaman chhoD do!
Oh mountains, show me the path! Oh thorns, let go of my embrace!
Yeh duniyaa yeh mehfil mere kaam ki nahii.N
This world and these people are not for me